ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نوٹ بند ی کے خلاف 8؍ نومبر کو کرناٹک میں کانگریس کا یوم سیاہ؛ بی جے پی والوں سے ہمیں دیانتداری سیکھنے کی ضرورت نہیں: پرمیشور

نوٹ بند ی کے خلاف 8؍ نومبر کو کرناٹک میں کانگریس کا یوم سیاہ؛ بی جے پی والوں سے ہمیں دیانتداری سیکھنے کی ضرورت نہیں: پرمیشور

Tue, 07 Nov 2017 03:04:22    S.O. News Service

بنگلورو۔6؍نومبر(عبدالحلیم منصور/ایس او نیوز) مرکزی حکومت کی طرف سے 8 ؍نومبر کو لاگو کی گئی نوٹ بندی کی ایک سال کی تکمیل کے موقع پر کانگریس نے 8؍ نومبر کو یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات آج کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے بتائی۔

ٹمکور میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس دن ریاست بھر میں کانگریس کارکن صبح کے وقت احتجاجی ریلی نکالیں گے اور شام میں مو م بتیاں لے کر مظاہرہ کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی کے جنم دن کی صد سالہ تقریبات کی مناسبت سے 19؍ نومبر کو ریاست بھر میں شمع جلانے کا پروگرام منظم کیا جائے گا۔

ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کے اس الزام پر کہ ریاستی حکومت کرپشن کے بے شمار معاملات میں ملوث ہے، ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ الزامات لگانا یڈیورپا کا شیوہ بن چکا ہے۔ ان الزامات کی تائید میں اگر ثبوت ہوں تو منظر عام پر لائیں ، غیر ضروری طور پر دھمکیوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ جیسے اہم عہدہ پر فائز رہ چکے یڈیورپا میں اگر سنجیدگی نہ رہی تووہ پوری ریاست میں مذاق کا موضوع بن جائیں گے۔ جس وقت یڈیورپا کی حکومت تھی تب بی جے پی کی مبینہ رشوت ستانی اور کرپشن کے متعلق دستاویزات برآمد ہوئے اور اسی کے متعلق قانونی کارروائی ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ بحیثیت وزیر اعلیٰ جیل جاچکے یڈیورپا کوکرپشن کے متعلق کچھ بھی کہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ اپنے دور اقتدار میں کرپشن ، کمزور انتظامیہ ، عوام کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کے مرتکب بی جے پی لیڈران کانگریس کو یہ نہ سکھائیں کہ حکومت کیسے چلائی جائے۔

2013کے اسمبلی انتخابات میں کورٹگیرے اسمبلی حلقہ سے ان کی ناکامی کیلئے یڈیورپا کی طرف سے وزیر اعلیٰ سدرامیا کو ذمہ دار ٹھہرائے جانے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ اپنی شکست کیلئے وہ خود کو ذمہ دار مانتے ہیں۔اگر سدرامیا ان کی شکست کیلئے ذمہ دار ہوتے تو باقی 124حلقوں میں کانگریس امیدوار کامیاب نہیں ہوپاتے۔ انہوں نے کہاکہ اگلے انتخابات میں انہیں ٹکٹ دینا ہے یا نہیں یہ فیصلہ کانگریس اعلیٰ کمان کی طرف سے کیا جائے گا۔

ڈاکٹر پرمیشور نے دعویٰ کیا کہ عنقریب بی جے پی کے 20 سے زائد اراکین اسمبلی کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے ہیں۔ جلد ہی ان تمام کے نام منظر عام پر لائے جائیں گے۔ اس موقع پر اے آئی سی سی سکریٹری مدھو یاکشی گوڈنے بی جے پی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک ایسی پارٹی ہے جس کے قومی صدر پر قتل، اقدام قتل ، دھوکہ دہی جیسے سنگین معاملات درج ہیں اور جو بارہا جیل کی ہوا کھا چکا ہے۔ ایسے افراد کی پارٹی سے کانگریس کو دیانتداری کا درس حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ریاست میں بی جے پی جس شخص کو وزیراعلیٰ بنانا چاہتی ہے وہ بھی اپنے سیاسی آقاؤں سے کچھ کم نہیں۔ وہ بھی رشوت ستانی ، دھوکہ دہی ، اراضی ڈی نوٹی فکیشن اور دیگر الزامات کے سبب جیل کی ہوا کھا چکے ہیں۔

ڈی وائی ایس پی گنپتی معاملہ میں وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج کو نشانہ بنائے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سیاسی وجوہات کی بنیاد پر بی جے پی جارج سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہی ہے۔ اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی گئی ہے ، سی بی آئی کو غیر جانبداری سے جانچ کرنی چاہئے، جانچ کے دوران اگر جارج خاطی پائے گئے تو اس وقت کانگریس خود ان کے خلاف کارروائی کرے گی۔ اس موقع پر رکن اسمبلی این راجنا ، ریاستی وزیر ٹی بی جئے چندرا، ٹمکور کے رکن پارلیمان ایس پی مدو ہنومے گوڈا، رکن اسمبلی ڈاکٹر رفیق احمد اور دیگر لیڈران موجود تھے۔


Share: